خواتین کی صحت

کیا حمل کے دوران بالوں، ہاتھوں یا پیروں پر مہندی لگانا محفوظ ہے؟ ماہرین سے جانیں۔

حمل کے دوران مہندی کا استعمال محفوظ ہے لیکن آپ کے لیے اس کے طریقوں کے بارے میں جاننا بھی بہت ضروری ہے۔

مہندی کا ہمارے رسم و رواج اور خوبصورتی سے ایک طویل تعلق ہے۔ ہر تہوار اور جشن میں لوگ اپنے ہاتھوں اور بالوں کو رنگنے کے لیے مہندی کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے آپ کے بالوں اور جلد کو بھی بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن کئی بار آپ کی حاملہ خواتین کو ڈر ہوتا ہے۔ کہ آیا وہ حمل کے دوران جلد یا بالوں پر مہندی لگا سکتی ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ خوف بھی ہے کہ آیا اس سے ان کے پیدا ہونے والے بچے کو کوئی نقصان پہنچے گا، لیکن آپ کو گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ حمل کے دوران بالوں یا ہاتھوں پر قدرتی مہندی لگانے سے آپ کو زیادہ نقصان نہیں ہوت۔ا بلکہ آپ کو اچھے نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن آپ کو ایک بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ مہندی صرف قدرتی طور پر تیار کی جاتی ہے اور اس میں کسی قسم کے کیمیکل کا استعمال نہ کریں۔ کیونکہ یہ آپ کو اور بچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مسائل بھی ہو سکتے ہیں۔

is mehndi henna harmful during pregnancy in urdu

حمل کے دوران کس قسم کی مہندی کا استعمال کرنا ہے۔(what kind of henna to use during pregnancy)

حمل کے دوران صرف قدرتی مہندی کا استعمال کریں۔ اس کے علاوہ، اگر وہ مہندی قدرتی طور پر تیار کی گئی ہے، تو حاملہ خواتین بھی وہی مہندی استعمال کر سکتی ہیں۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ قدرتی مہندی کا رنگ سرخ، نارنجی، بھورا، کافی یا چاکلیٹ کا رنگ ہوتا ہے نہ کہ کالا۔ اگر مہندی لگانے کے بعد آپ کی جلد پر سیاہ رنگ نظر آئے تو اسے استعمال نہ کریں۔  اس میں کیمیکل استعمال کیے جا سکتے ہیں اور اس سے جلد کی الرجی بھی ہو سکتی ہے۔ قدرتی مہندی کا رنگ چار ہفتوں تک رہ سکتا ہے۔

کیا میں حمل کے دوران بالوں میں مہندی لگا سکتا ہوں۔(Can I apply henna on hair during pregnancy)

بہت سے لوگوں کو اپنے بالوں کو رنگنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ وہ مہینے یا ہفتے میں ایک بار مہندی ضرور استعمال کرتا ہے۔ اگر آپ حمل کے دوران اپنے بالوں میں پتوں کے ساتھ مہندی لگاتے ہیں تو یہ بہتر رہے گا یا صرف ایسی مصنوعات کا استعمال کریں جس کا آپ کو یقین ہو۔ قدرتی مہندی آپ کے بالوں کو پرورش اور چمک بھی دیتی ہے۔ اس کے ساتھ سر کی جلد کے بہت سے مسائل کو بھی ٹھیک کیا جا سکتا ہے اور بہت سے لوگ اسے سر درد میں لگانا بھی پسند کرتے ہیں کیونکہ اس سے سر کی جلد کو ٹھنڈک ملتی ہے۔ تاہم، آپ کو اسے صرف آدھے گھنٹے یا اس سے زیادہ کے لئے رکھنا چاہئے.

یہ بھی پڑھیں: حمل کے دوران دہی کھانے سے جسم کے کئی مسائل دور ہوتے ہیں، ماہرین سے فائدے جانیں۔

کیا حمل کے دوران ہاتھوں پر مہندی لگانا محفوظ ہے۔(Is it safe to apply henna on hands during pregnancy)

حمل کے دوران ایسی کئی رسمیں ہیں جن میں خواتین اپنے ہاتھوں پر مہندی لگاتی ہیں۔ کئی بار لوگ حاملہ عورت کے پیٹ پر مہندی بھی لگاتے ہیں۔ دراصل یہ جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ پھٹی ایڑیوں، فنگل انفیکشن اور ناخنوں کو بھی غذائیت فراہم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس لیے مہندی کا گہرا رنگ حاصل کرنے کے لیے آپ پتوں کو پیس کر ہاتھوں پر لگا سکتے ہیں۔ اچھے فوائد کے لیے آپ اس میں لیموں یا ہیبسکس کے پھول بھی شامل کر سکتے ہیں۔ اسے ہاتھوں پر ایک سے دو گھنٹے تک رکھا جا سکتا ہے۔ مہندی کو خشک کرنے کے بعد آپ اس پر سرسوں یا لونگ کا تیل لگا سکتے ہیں۔ اس سے رنگ گہرا ہو جاتا ہے۔

سیاہ مہندی کے استعمال سے یہ نقصانات ہوسکتے ہیں۔(These disadvantages can be caused by using black mehndi)

1. سیاہ مہندی میں PPD یا paraphenylenediamine ہوتا ہے، جو عام طور پر کیمیائی رنگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

2. PPD جلد کے چھالوں، جلن اور الرجک رد عمل کا سبب بن سکتا ہے اور غیر پیدائشی بچے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

3. اگر آپ حمل کے دوران اپنے بالوں پر کیمیکل مہندی لگائیں تو یہ آپ کے مدافعتی نظام کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حمل کے دوران پروٹین سے بھرپور یہ 10 غذائیں کھائیں، صحت کو بہت سے فائدے ملیں گے۔

is mehndi henna harmful during pregnancy in urdu

 

احتیاطی تدابیر۔(Precautions)

1. مہندی لگانے سے پہلے اپنے ہاتھوں کا پیچ ٹیسٹ کر لیں تاکہ جلد کی الرجی یا کسی بھی قسم کی پریشانی کا پتہ چل سکے۔

2. اپنے بالوں میں مہندی لگاتے وقت اپنی سہولت کے لیے کسی کی مدد لیں، ورنہ آپ کو خود کرنے میں پریشانی ہو سکتی ہے۔

3. مہندی لگاتے وقت آرام سے بیٹھیں تاکہ ایک جگہ زیادہ دیر بیٹھنے پر آپ کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ اس کے لیے آپ تکیے اور دیگر چیزیں استعمال کر سکتے ہیں۔

4. اس کے علاوہ بال دھوتے وقت کسی کی مدد لیں۔

5. مہندی لگاتے وقت اگر آپ کو کسی بھی قسم کی الرجی، جوڑوں کا درد، خارش یا جلن کا مسئلہ ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button