صحت مند غذا

انڈے کا صرف سفید حصہ کھانے سے آپ کی صحت کو یہ 3 نقصانات ہو سکتے ہیں۔

روزانہ انڈے کا استعمال صحت کے لیے مفید ہے۔ لیکن اگر آپ صرف سفید حصہ کھاتے ہیں تو آپ کو اس کے مضر اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

انڈے پروٹین اور کچھ دیگر غذائی اجزاء کا بہترین ذریعہ ہیں۔ اس لیے آپ اسے صبح کے ناشتے میں کھانا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر آپ اس کا صرف سفید حصہ ہی کھاتے ہیں تو یہ آپ کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ اگرچہ سفید حصے میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن حقیقت میں اس میں غذائیت کی کمی ہوتی ہے۔ جب آپ اس کی زردی نہیں کھاتے ہیں تو آپ انڈے میں موجود بہت سے غذائی اجزاء سے محروم ہو جاتے ہیں۔ انڈے کی زردی کو ختم کرنے سے آپ کو انڈے کا صرف آدھا فائدہ ملتا ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو دیگر جسمانی مسائل جیسے انفیکشن یا الرجی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں مزید تفصیل سے بتائیں۔

انڈے میں غذائیت.(nutrition in eggs)

اگر ہم پورے انڈے کی بات کریں تو یہ پروٹین، سوڈیم، فولیٹ، کیلشیم اور سیلینیم سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ 6 مختلف اقسام کے بی وٹامنز بھی پائے جاتے ہیں۔ اگر معدنیات کی بات کریں تو انڈوں میں آئرن، کیلشیم، فاسفورس، زنک اور فولیٹ جیسے معدنیات پائے جاتے ہیں۔ جس میں سے زیادہ تر غذائیت اس کی زردی میں موجود ہوتی ہے۔ اگر آپ انڈے کی زردی کے بجائے اس کا سفید حصہ استعمال کرتے ہیں تو اس میں غذائیت کم ہوتی ہے۔ اس میں تقریباً 15-20 کیلوریز بھی ہوتی ہیں۔ اگر آپ یہ حصہ نہیں کھائیں گے تو آپ کو ان غذائی اجزاء میں سے آدھا یا اس سے کم ہی ملے گا۔ انڈے کی سفیدی صرف پروٹین سے بھرپور ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شلجم کا جوس پینے سے قوت مدافعت بڑھتی ہے اور موٹاپا کم ہوتا ہے، جانئے اس جوس کے فائدے اور نقصانات

انڈے کی سفیدی کھانے کے مضر اثرات.(Side effects of eating egg white)

1. فوڈ پوائزننگ.(Food Poisoning)

انڈے کی سفیدی کھانے سے فوڈ پوائزننگ ہو سکتی ہے کیونکہ بعض اوقات انڈے کی سفیدی سلمونیلا بیکٹیریا سے متاثر ہو سکتی ہے، جو چکن کی آنتوں میں پایا جاتا ہے۔ اگر آپ اس خطرے سے بچنا چاہتے ہیں تو روزانہ انڈے کی سفیدی کے استعمال سے گریز کریں اور جہاں تک ممکن ہو انڈے کو اچھی طرح پکانا چاہیے۔

side effects of eating egg white in urdu

2. جسم میں بایوٹین کی کمی.(Biotin deficiency in the body)

بایوٹین یعنی گھلنشیل وٹامن ایچ یا وٹامن بی 7 جوگی کے پٹھوں کی صحت کے لیے ضروری ہے، اس کی کمی سے بالوں کا گرنا، جھولا ٹوپی یا پٹھوں میں درد وغیرہ جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ایوڈن پروٹین بھی ہے جو انڈے کے سفید حصے میں موجود ہوتا ہے۔ اس کی زیادتی جسم میں بایوٹین کی کمی کا باعث بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گردے کی پتھری کے لیے ایلو ویرا: گردے کی پتھری کے مسئلے میں ان 5 طریقوں سے ایلو ویرا کا استعمال کریں

3. جسم میں الرجی.(Allergies in the body)

کچھ لوگوں کو البومین سے الرجی ہوتی ہے، جو انڈے کی سفیدی میں موجود پروٹین ہے۔ اگر انڈے کا سفید حصہ زیادہ کھایا جائے تو ان لوگوں کو الرجی جیسے متلی، قے، سوجن، خارش جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کو انڈے کے سفید حصے سے ہائی بلڈ پریشر یا سانس لینے میں دشواری بھی ہو سکتی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ انڈوں کا استعمال صحت کے لیے فائدہ مند ہے لیکن انڈوں کا زیادہ استعمال نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر آپ انڈے کا صرف سفید حصہ کھاتے ہیں تو یہ زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے اپنی خوراک میں پورے انڈے شامل کریں اور انڈوں کو صحیح طریقے سے پکانے کے بعد ہی کھائیں۔

 

Aarif Rao

Arif Rao is a Herbalist, Blogger, Writer, YouTuber, and Digital Content Creator who is helping people by solving their problems and making them physically stable.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button